ابنا: ڈائرکٹر جنرل سید عیسی حسینی مزاری نے کہا کہ دین ، اسلام اور ولایت فقیہ کے دشمنوں نے ایران میں 2009 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد کے واقعات میں بخوبی واضح کردیا کہ وہ کس طرح سے ایران کے اندر اور باہر ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں تاکہ دین ، مذہب اور ولایت فقیہ سے اپنی انتہائی نفرت کو برملا کریں۔ حسینی مزاری نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ 2009 میں دشمنان اسلام اور اسلامی انقلاب کے دشمنوں نے اپنی پوری توجہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے خاتمے پر مرکوز کر رکھی تھی کہا کہ اس سال پوری ملت ایران حتی وہ افراد بھی جو بعض دیگر افراد کی جھوٹی باتوں میں آگئے تھے، متوجہ ہوگئے کہ اصل مسئلہ انتخابات میں دھاندلی وغیرہ کا نہیں ہے بلکہ ان کا اصلی ہدف اور مقصد، ایران کے اسلامی نظام حکومت کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔انہوں نے 9 دی 1388 مطابق تیس دسمبر سنہ دو ہزار نو کی تاریخ کو ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے ساتھ ملت ایران کی بیعت کے لئے حالات سازگار ہونے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس دن لاکھوں ایرانی مسلمانوں اور نظام اسلامی کے عاشقوں نے اندرون و بیرون ملک ہم آواز ہوکر اسلامی انقلاب کے اہداف اور امنگوں سے دوبارہ بیعت کی۔واضح رہے کہ 6 دی 2009 کو بعض سامراجی ایجنٹوں اور خود فروختہ افراد نے عاشور کےدن عزاداران امام حسین(ع) پر حملہ کرکے آشوب برپا کردیا تھا جس کے بعد 9 دی 2009 کو پورے ایران میں لوگ سڑکوں پرنکل آئے اور دشمن عناصر کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کیا اور ایران کے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ ) اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کے ساتھ تجدید بیعت کیا۔
.....
/169